Posts

Changing World

Image
حادثات ہوں یا آفات یہ چاہے کسی فرد کی زندگی میں رونما  ہوں یا  کسی قوم کا ان سے پالا پڑھ جائے یہ فرد و قوموں کی زندگی میں تبدیلیاں  لے آتے ہیں۔یہ تبدیلیاں منفی بھی ہو سکتی ہیں اور مثبت بھی لیکن اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔یوں ہی کرونا وائرس کی وباء کے بعد کی دنیا بھی یقیناً پہلے سے مختلف ہو گی۔آئیے ہم بھی ان مفروضوں کی دنیا میں ان تبدیلیوں کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم کرتے ہیں  اور  اندازہ لگاتے ہیں کہ ملکوں کی اس وباء سے نمٹنے کے بعد کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ عام لوگوں کا  یقین کیا ہو گا؟ دنیا کے بڑے  اداروں کی   پالیسیاں کیا ہوں  گی؟؟؟    وغیرہ وغیرہ۔۔ سب سے پہلی اور بڑی  تبدیلی جو آنی چاہیے اور آئے گی بھی وہ یقیناً عام لوگوں کی صحت و تندرستی کو  انسان دوست معاشرے، ادارے اور حکومتیں اپنی پہلی ترجیح اور اثاثہ سمجھیں گے اور صحت کے محکموں کی بہتری اور ترقی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کریں گے کیونکہ وباء نے یہ درس دیا ہے کہ جنگی جہاز، بحری بیڑے  اور بڑی بڑی   فوجیں آپ کی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے تو لازم ہی...

Lockdown and Pandemic

Image
جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد کم وبیش دو ہفتے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے باوجود وباء کنٹرول ہونے کا نام نہیں لے رہی ایسے میں لاک ڈاؤن کو طول دیے جانے کی تجویزیں آ رہی ہیں اور بہت جلد حکومت وقت شاید  ایسا حکم نامہ بھی جاری کر دے گی اور اس حکم نامے کے تحت یقیناً لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سختی سے عملدرآمد   کروانے کا پروانہ بھی جاری کر دیا جائے گا اور اس کی بازگشت حکومتی  ایوانوں میں پہلے سے سنائی بھی دی جا رہی ہے۔ اور یہ سب کچھ کرنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور حکومت کی مجبوری بھی۔ لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جو غور طلب ہیں اگر ان مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو یہ وبا ہمیں ایسے دلدل میں دھکیل دے گی  جس سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ سب سے پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری کمزور معاشیت اور غریب عوام ایک طویل دورانیہ کا لاک ڈاؤن جیل پائے گی؟ کیا اس لاک ڈاؤن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور کردار تسلی بخش ہے؟ کہیں یہ لاک ڈاؤن ادارے کی ساکھ کو متاثر تو نہیں کر رہا؟ کہیں ایسا تو نہ ہو کہ یہ لاک ڈاؤن آنے والے دنوں م...

Education and Epidemic

Image
کرونا وائرس کی وبا نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے وہیں تعلیم کا شعبہ بھی اس وبا سے بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ مئی کے آخر تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو وقت کی ضرورت اور لازم بھی ہے۔لیکن ایسے میں والدین سے لے کر اساتذہ سب اس سوچ بچار میں مشغول ہیں کہ طلباء کے  تعلیمی ضیاع کو کس طریقے سے  کم سے کم کیا جائے؟ اس سوال پر ماہرین اپنی اپنی رائے قائم کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا  خیال ہے کہ آن لائن کلاسز شروع کی جائے،کچھ کا خیال ہے کہ طلباء کو ان کی سابقہ امتحانات میں  کارگردگی کی بنیاد پر اگلی کلاسز یا سمسٹر میں پروموٹ کر دیا جائے۔ ایسی  غیر یقینی کی صورت حال میں جو پہلی حقیقت ہمیں مان لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیم کے  شعبے نے کبھی ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی تیاری کی ہی   نہیں  حالانکہ ہم ہر سال کسی نہ کسی ایسی چھوٹی موٹی آفت کا شکار ہوتے رہے ہیں جو تعلیمی سرگرمیوں کو منجمد کرتی رہی ہے مثلاً زلزلے یا سیلاب لیکن ان سب وارننگ کے باوجود ہم نے کبھی اس حوالے سے کوئی حکمتِ عملی نہیں اپنائی۔ ایسے میں ہم اتنی ب...
Image
۔ قوموں کی تاریخ میں آفات آتی رہتی ہیں اور قوموں کو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا دنیا کے بیشتر ممالک میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔اس وبا کے خطرات، علامات اور آگاہی کے حوالے سے سینکڑوں پیغامات گردش کر رہے ہیں جو ایک مثبت عمل ہے البتہ یہ وبا خوف و ہراس نقصانات کے ساتھ ساتھ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے کچھ سبق دی رہی ہے جنھیں ہم اگر انفرادی اور اجتماعی طور پر ذہن نشین کر لیں تو ہم بطور قوم تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ یاد کیے جائیں گے۔ اگر انفرادی سطح پر بات کی جائے تو ہر بندہ اللہ تعالی کا  لاکھ لاکھ شکر ادا کرے  اس وبا کے مرکز کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود ہم اس وبا سے اس  طرح سے متاثر نہیں ہیں جس طرح اور ممالک ہیں اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کر لیں کہ آج کے  بعد  شکوہ شکایت نہیں کریں گے بلکہ جو اس مالک نے عطا کیا ہے اس کا شکر ادا کریں گے کیونکہ اس وبا نے یہ درس دیا ہے کہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی صحت ہے جان ہے تو جہاں ہے۔ اور ساتھ ہی ہر ممکنہ احتیاطی تدابیر بھی اپنائیں۔ اگر آپکو انفرادی طور پر شکوہ ہے کہ ہمارا بطور قوم اس وبا کہ حوا...