قوموں کی تاریخ میں آفات آتی رہتی ہیں اور قوموں کو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا دنیا کے بیشتر ممالک میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔اس وبا کے خطرات، علامات اور آگاہی کے حوالے سے سینکڑوں پیغامات گردش کر رہے ہیں جو ایک مثبت عمل ہے البتہ یہ وبا خوف و ہراس نقصانات کے ساتھ ساتھ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے حوالے سے کچھ سبق دی رہی ہے جنھیں ہم اگر انفرادی اور اجتماعی طور پر ذہن نشین کر لیں تو ہم بطور قوم تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ یاد کیے جائیں گے۔
اگر انفرادی سطح پر بات کی جائے تو ہر بندہ اللہ تعالی کا
لاکھ لاکھ شکر ادا کرے اس وبا کے مرکز کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود ہم اس وبا سے اس طرح سے متاثر نہیں ہیں جس طرح اور ممالک ہیں اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کر لیں کہ آج کے بعد شکوہ شکایت نہیں کریں گے بلکہ جو اس مالک نے عطا کیا ہے اس کا شکر ادا کریں گے کیونکہ اس وبا نے یہ درس دیا ہے کہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی صحت ہے جان ہے تو جہاں ہے۔ اور ساتھ ہی ہر ممکنہ احتیاطی تدابیر بھی اپنائیں۔
اگر آپکو انفرادی طور پر شکوہ ہے کہ ہمارا بطور قوم اس وبا کہ حوالے سے رویہ غیر ذمہ دارنہ رہا ہے یا پھر غیر ذمہ دارنہ ہے تو آپ یہ عہد کر لیں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت اس طرح سے کریں گے کہ ان میں ایسی کوئی کمی کوتاہی نہیں رہے گی۔
اگر آپکو اپنے منتخب نمائندوں یا پھر حکومت یا پھر اداروں سے شکوہ ہے کہ انھوں نے وہ کردار ادا نہیں کیا یا پھر وہ اقدامات نہیں کیے جو اس مشکل گھڑی کی ضرورت تھے تو آپ یہ عہد کر لیں کہ اب آپ کبھی بھی ذاتی مفاد یا پھر ضرورت کی بنیاد پر کسی کو ووٹ یا سپورٹ نہیں کریں گے۔ بلکہ قابل اور حقدار لوگوں کو سامنے لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ آنے والے وقتوں میں یہ مسائل درپیش نہ ہوں۔
جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت آپ لاک ڈاؤن اور آئسولیشن زدہ زندگی کی گھٹن کا اندازہ کر چکے ہوں گے اس لیے آپ یہ عہد کرلیں کہ آج کہ بعد کسی بوڑھے یا پھر مریض کو جو محض ہماری غیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے اس طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں انہیں روزانہ وقت دیں گے ان کے دکھ درد سنیں گے اور ایسی گھٹن کا شکار زندگی سے انھیں نجات دلائیں گے ۔
کیونکہ باروز محشر شاید ہمیں اس بات کا اجر نہیں ملے گا کہ ہمیں لوگوں کی مصیبتوں اور پریشانیوں پر کتنا دکھ تھا بلکہ شاید یہ پوچھا جائے گا کہ اس وبا کے زمانے میں کہیں ہم دس کا ماسک سو یا پانچ سو کا بیچ کر، اشیاء خوردہ نوش کی ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کے چکر میں تو نہیں تھے۔ہم سے شاید اس پڑوسی کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا جو وبا نہیں بلکہ ہماری غفلت اور بھوک کی وجہ موت کا شکار ہو جائے گا۔ آئیے ہم یہ عہد کریں کہ نہ ہم ایسا کریں گے نہ ایسا ہونے دیں گے۔
اور اجتماعی طور ہمارے اادارے اور حکومت اپنی کارگردگی کی ایک فہرست مرتب کریں جس میں اپنی کمیاں اور کوتاہیوں لکھیں اور یہ عہد کریں کہ ان کو ہر صورت دور کریں گے تاکہ آنے والے وقتوں میں کسی ایسی ناگہانی آفت کی صورت میں اس سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ ساتھ ہی ہمارے تھینک ٹینک اس حوالے سے بھی ایک واضح پالیسی مرتب کریں کہ ہمارے لیے کون سی چیز کتنی اہم ہے سادہ الفاظ میں ہمارے لیے تعلیم کی اہمیت کتنی ہے صحت کی اہمیت کتنی ہے دفاع کی اہمیت کتنی ہے اور اس طرح دیگر شعبوں کی اور پھر ان سب شعبوں کی اہمیت کے حساب سے ان پر توجہ اور اخراجات بھی کیے جائیں۔
اور آخر میں اس وبا سے ڈرنے کی نہیں بلکے صرف احتیاط اور ذمہ دارانہ کردار کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس وبا سے زیادہ خطرناک وبا دہشتگردی سے لڑ چکے ہیں ہم زلزلے جیسی ناگہانی آفت کا مقابلے کر چکے ہیں کیونکہ ان دونوں کیسیز میں نہ تو کوئی احتیاطی تدابیر تھیں اور نہ ہی کوئی ایڈوانس وارننگ تھی۔ انشاءاللہ ہم نے ہر صورت یہ جنگ جیتنی ہے اور انشاءاللہ جیتیں گے بس اپنے حصے کا کردار ادا کی جیے تاکہ تاریخ میں آپکا نام سنہری حروف میں لکھا جا سکے اور اگر ہم نے یہ جنگ منظم طریقے سے لڑی تو ہم پہلے سے زیادہ طاقتور و توانا قوم بن کر ابھریں گے انشاءاللہ۔ اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہم سمیت ساری انسانیت کو اس وبا سے نجات دے ۔امین ۔
تحریر ثاقب کیانی۔

Excellent
ReplyDeleteMarbani
Delete