Education and Epidemic
کرونا وائرس کی وبا نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے وہیں تعلیم کا شعبہ بھی اس وبا سے بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ مئی کے آخر تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو وقت کی ضرورت اور لازم بھی ہے۔لیکن ایسے میں والدین سے لے کر اساتذہ سب اس سوچ بچار میں مشغول ہیں کہ طلباء کے تعلیمی ضیاع کو کس طریقے سے کم سے کم کیا جائے؟
اس سوال پر ماہرین اپنی اپنی رائے قائم کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ آن لائن کلاسز شروع کی جائے،کچھ کا خیال ہے کہ طلباء کو ان کی سابقہ امتحانات میں کارگردگی کی بنیاد پر اگلی کلاسز یا سمسٹر میں پروموٹ کر دیا جائے۔ ایسی غیر یقینی کی صورت حال میں جو پہلی حقیقت ہمیں مان لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیم کے شعبے نے کبھی ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی تیاری کی ہی نہیں حالانکہ ہم ہر سال کسی نہ کسی ایسی چھوٹی موٹی آفت کا شکار ہوتے رہے ہیں جو تعلیمی سرگرمیوں کو منجمد کرتی رہی ہے مثلاً زلزلے یا سیلاب لیکن ان سب وارننگ کے باوجود ہم نے کبھی اس حوالے سے کوئی حکمتِ عملی نہیں اپنائی۔ ایسے میں ہم اتنی بڑی آفت سے کیسے نمٹیں گے یہ شاید کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کیونکہ اس وقت تو ترقی یافتہ ممالک بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں اور ویسے بھی فطرت کا قانون ہے کہ جب آگ بھڑک اٹھے اس وقت کنویں نہیں کھودے جا سکتے بلکہ اس کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی جانب آن لائن کلاسز محدود پیمانے پر تو تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کر سکتی ہیں لیکن پورے ملک میں یہ ناممکن ہے کیونکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج تک بنیادی سہولتیں نہیں میسر تو ایسے میں آن لائن کلاسز ایک ایسا خواب ہی ہو سکتا ہے جس کی کوئی تعبیر نہ ہو۔نہ ہی ہماری شرح خواندگی کا تناسب اتنا ہے کہ یہ والدین بچوں کو خود نصاب کی مشکل کتابیں پڑھا پائیں۔
ایسے میں ہمارے پاس ایک آپشن موجود ہے جو آسان بھی ہے اور فائدہ مند بھی۔ ہمارا تعلیمی کا محکمہ ایک نوٹیفکیشن جاری کرے جس نوٹیفکیشن کے تحت کلاس نرسری سے بارویں جماعت تک کے لئے قدرتی آفات اور وباؤں سے نمٹنے کے لیے ایک کورس کو نصاب کا لازم حصہ بنا دیا جائے اور اس کے لئے کوئی مخصوص نام بھی مختص کر دیا جائے۔ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اور دستیاب سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بذریعہ خط، ڈاک یا ٹیلیفون بچوں اور ان کے والدین کو ہوم ورک کے حوالے سے آگاہ کرے۔
مثلاً اگر بچہ نرسری کلاس کا طالب علم ہے تو اس کے والدین کو ٹاسک دیا جائے کہ وہ بچے کو صحت کی اہمیت کے حوالے سے،صفائی کے حوالے سے، بیماریوں سے بچنے کے حوالے سے اپنی مادری زبان میں ہی سمجھائیں اور والدین کو بتایا جائے کہ جب بچے سکول آئیں گے ان سے اس حوالے سے ٹیسٹ یا پیپر لیا جائے گا یوں چونکہ یہ آسان اور عام سے موضوعات ہیں ہر والدین اپنے بچے کو بتا یا سمجھا بھی سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ بچے کو زندگی میں ایسی ناگہانی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے درس بھی دیا جا سکتا ہے اور بچوں کے قیمتی وقت کے ضیاع کو بھی کم کیا جا سکتا ہے اور جب بچے سکول آئیں تو ان سے ہوم ورک کے حوالے سے پوچھا جائے اور کمی کوتاہی کو بھی اساتذہ دور کر دیں یوں بارہویں جماعت تک کے طالب علموں کو ان کی ذہنی بلوغت کے حساب سے آفات اور وباؤں کے حوالے سے کوئی کوئی نہ کوئی ہوم ورک دے دیا جائے جو یقیناً بچوں کے اندر تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لحاظ سے بھی ایک اچھا تجربہ ثابت ہو گا۔
اسی طرح سے یونیورسٹی کے طالب علموں کو اپنے اپنے شعبے کے لحاظ سے آفات اور وباؤں سے نمٹنے کے لئے سے کوئی نہ کوئی ٹاسک دے دیا جائے مثلاً شعبہ ارضیات کے متعلقہ طلباء کو ٹاسک دیا جائے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود کسی بھی ایسے جیالوجیکل چیز کے حوالے سے معلومات فراہم کریں جو مستقبل میں کسی خطرناک آفت مثلاً زلزلے وغیرہ کا سبب بن سکتی ہو اور اس کے نقصان کو کم کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز دے۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنسز کے طالب علموں کو ان کے شعبے کے حساب سے ٹاسک دے دیا جائے، سیکالوجی والوں کو ٹاسک دے دیا جائے کہ آخر ہماری ایسی سوچ کی کیا ایسی وجوہات ہیں کہ ہم کرونا وائرس جیسے مہلک وبا کو بھی مذاق میں اڑا رہے ہیں پھر یونیورسٹی آنے پر طلباء سے ہومورک جمع کر کے ہر شعبہ ایک رپورٹ تیار کرے جسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ والوں کو ارسال کر دیا جائے یوں ڈیزاسٹر مینجمنٹ والوں کے پاس اتنا مواد جمع ہو جائے گا کہ وہ مستقبل میں ایسے آفات سے نمٹنے کے لئے مناسب اور جامع حکمت عملی بنا سکیں گے اور یوں نئی اور مفید رائے بھی سامنے آئیں گی اور ہم سب ایسی آفات سے نمٹنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔
اختلاف رائے ہو سکتا ہے قارئین کا میری رائے سے متفق ہونا لازم نہیں ہے۔
تحریر ثاقب کیانی

Good there must be practical education system instead of ratalogy. So that student become more creative and face every problems and challenge of the world.
ReplyDeleteThnx
DeleteMa sha ALLAH v.nice
ReplyDeleteThnx
Deleteبہترین
ReplyDeleteThnx
DeleteI agreed above mentioned article. Fantastic, Professional, well done. Jb koy disaster hota ha to hmayn is per sochna chayay kaisay hwa is ki kiya reasons hn. Kahan lack hwa. Kon responsible ha. Feature main is ko kaisay control kiya ja sakta ha. Preventive measures kiya hn aor Feature main is ka sadebab kaisay kiya ja sakta ha. Raha question hazard ka is ko complete khatum nahi kiya ja sakta minimise kiya ja sakta ha planning say
ReplyDeleteThnx jnb or ap k point blkl valid ha
DeleteGreat saqib bi ...kerp it up
ReplyDeleteMarbani sir
ReplyDelete