Changing World
حادثات ہوں یا آفات یہ چاہے کسی فرد کی زندگی میں رونما ہوں یا کسی قوم کا ان سے پالا پڑھ جائے یہ فرد و قوموں کی زندگی میں تبدیلیاں لے آتے ہیں۔یہ تبدیلیاں منفی بھی ہو سکتی ہیں اور مثبت بھی لیکن اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔یوں ہی کرونا وائرس کی وباء کے بعد کی دنیا بھی یقیناً پہلے سے مختلف ہو گی۔آئیے ہم بھی ان مفروضوں کی دنیا میں ان تبدیلیوں کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم کرتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ ملکوں کی اس وباء سے نمٹنے کے بعد کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ عام لوگوں کا یقین کیا ہو گا؟ دنیا کے بڑے اداروں کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟؟؟ وغیرہ وغیرہ۔۔
سب سے پہلی اور بڑی تبدیلی جو آنی چاہیے اور آئے گی بھی وہ یقیناً عام لوگوں کی صحت و تندرستی کو انسان دوست معاشرے، ادارے اور حکومتیں اپنی پہلی ترجیح اور اثاثہ سمجھیں گے اور صحت کے محکموں کی بہتری اور ترقی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کریں گے کیونکہ وباء نے یہ درس دیا ہے کہ جنگی جہاز، بحری بیڑے اور بڑی بڑی فوجیں آپ کی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے تو لازم ہیں لیکن یہ آپکو کبھی عظیم قوم نہیں بنا سکتے بلکہ یہ عام شہری ہی ہوتے ہیں جو قوموں کو عظیم بنانے کے لیے بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ اسلئے ان کی صحت و تندرستی سب سے اہم ہے۔
دوسری بڑی تبدیلی اس وباء کے نتیجے میں عام لوگوں کی سوچ پے اثرات کے حوالے سے ہو سکتی ہے۔جس طرح سے چین نے اس وباء پر قلیل وقت میں قابو پایا ہے اس سے متاثر ہو کر عام لوگوں کا ون پارٹی ون سسٹم جیسے آمرانہ نظام حکومت پر یقین بڑھ سکتا ہے اور ساتھ ہی کئی آمر اس کامیابی کو جواز بنا کر مستقبل قریب میں جمہوریتوں کے تختے الٹ سکتے ہیں؟؟
اس وباء کے نتیجے میں زندگی مزید مشینی ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن نے کئی بڑی بڑی کمپنیوں، سرمایہ داروں اور معاشی طاقتوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں کیونکہ ورکرز سب چھٹی پر ہیں ایسی صورتحال اس سوچ کو مزید تقویت بخش سکتی ہے جو پہلے ہی انسانی سماج میں پنجے گاڑ چکی ہے کہ انسانوں کی جگہ زیادہ سے زیادہ کام روبوٹوں اور مشینوں سے لیا جائے اور زائد سرمایہ کمایا جائے کیونکہ یہ نہ تھکتے ہیں نہ کسی مرض کا شکار ہوتے ہیں بس انسانی اشاروں پر لگاتار کام کرتے رھتے ہیں۔ایسے میں ایک عام لیبر کی کیا حثیت ہو گی یہ ایک اور سوالیہ نشان ہے؟
انسان کی ترقی کا پہیہ چلتے رہنے کے لئے لازم ہے کہ آنے والی نسلوں کی تربیت بغیر کسی روک تھام کے جاری و ساری رہنی چاہیے اور اس لاک ڈاؤن نے اس سلسلے کو مکمل روک دیا ہے ۔یوں اس وباء کے تھم جانے پر یقیناً تعلیم و تربیت کو ہر صورت جاری و ساری رکھنے کے لئے مہذب معاشرے کوئی لائحہ عمل طے کریں گے جس کے بعد یقیناً تعلیم کے محکمے میں دنیا بھر میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔عین ممکن ہے بلکہ لازماً اس شعبے کو آن لائن کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی بنائی جائے گی اور اس حوالے سے ہمیں بھی دنیا کی پیروی کرتے ہوئے کوئی اقدامات کرنے پڑیں گے اور ہمیں بھی پیشگی سوچ بچار کرنی ہو گی۔
ایک اور بڑی تبدیلی گلوبلائزیشن کی شدتِ کی کمی بھی ہو سکتی ہے اور آخر میں جس خطرناک تبدیلی کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے وہ بائیو ویپن کا استعمال ہے۔ اس وباء کے پھیلاؤ کے آغاز کے دنوں سے ہی بڑی طاقتوں کی آپس میں نوک جھونک چل رہی ہے اور اس وباء کو بائیو ویپن سمجھا جا رہا ہے اس کا فیصلہ شاید وقت کرے گا لیکن مستقبل قریب میں بائیو ویپن کے استعمال کی سوچ پروان چڑھ سکتی ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ ایک اور سوالیہ نشان ہے۔
مستقبل میں وہی معاشرہ یا فرد بہتر زندگی جی پائے گا یا گزار پائے گا جو ان حقائق کو ذہن میں رکھ کر مستقبل کی پلاننگ کرے گا۔ اسلئے اس حوالے سے سوچ بچار ہر خاص و عام کے لئے لازم بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ یوں یہ دورانیہ ہمارے مستقبل کا ٹیسٹ کیس ہے اللہ تعالی ہماری مدد فرمائیں۔امین۔

Fruitfull observation
ReplyDeleteBhtreen
ReplyDelete