Lockdown and Pandemic
جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد کم وبیش دو ہفتے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے باوجود وباء کنٹرول ہونے کا نام نہیں لے رہی ایسے میں لاک ڈاؤن کو طول دیے جانے کی تجویزیں آ رہی ہیں اور بہت جلد حکومت وقت شاید ایسا حکم نامہ بھی جاری کر دے گی اور اس حکم نامے کے تحت یقیناً لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سختی سے عملدرآمد کروانے کا پروانہ بھی جاری کر دیا جائے گا اور اس کی بازگشت حکومتی ایوانوں میں پہلے سے سنائی بھی دی جا رہی ہے۔ اور یہ سب کچھ کرنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور حکومت کی مجبوری بھی۔ لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جو غور طلب ہیں اگر ان مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو یہ وبا ہمیں ایسے دلدل میں دھکیل دے گی جس سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
سب سے پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری کمزور معاشیت اور غریب عوام ایک طویل دورانیہ کا لاک ڈاؤن جیل پائے گی؟ کیا اس لاک ڈاؤن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور کردار تسلی بخش ہے؟ کہیں یہ لاک ڈاؤن ادارے کی ساکھ کو متاثر تو نہیں کر رہا؟ کہیں ایسا تو نہ ہو کہ یہ لاک ڈاؤن آنے والے دنوں میں انارکی اور شورش کا باعث بن جائے؟ ہماری عوام اس لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کر رہی ہے کہ نہیں؟؟
اگر ہم پہلے سوال پر غور کریں تو اس کا جواب نہ ہے اور اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ اول تو اس وبا کے صحیح دورانیہ کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور دوسرا نہ ہی یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ وباء ایک دفعہ کنڑول ہونے کے بعد دوبارہ سر نہیں اٹھائے گی۔ ایسے میں اگر یہ وباء لمبے دورانیہ کے لئے جاری رہتی ہے یا پھر بار بار پھیلتی ہے تو ھماری کمزور معشیت اور غریب عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ ایسی صورتحال میں ہم اگر وباء سے بچ بھی گے تو خراب معاشی حالات ہمیں نگل جائیں گے۔
اس خطرے کے پیش نظر حکومت وقت اور پالیسی سازوں کو لاک ڈاؤن اور وباء کے علاوہ معملات پر بھی گہری نظر رکھنی ہو گی مثلاً گندم کی کٹائی کا موسم ہے اس کے لئے کوئی واضح حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ فصل اور کسان دونوں کو نقصان سے بچایا جا سکے بصورت دیگر ہم مستقبل میں غذائی قلت کا بھی شکار ہو سکتے ہیں اس کے ساتھ حکومت وقت عوام سے بھی اپیل کرے جو لوگ گندم کو محض جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ اس سال فصل کے پک کر تیار ہونے کا انتظار کریں تاکہ اس فصل سے چارے کے ساتھ ساتھ گندم کے آٹے کا بھی انتظام کیا جا سکے یوں متاثرہ غریب اور متوسط گھرانے کچھ عرصے کے لئے خوراک کے لحاظ سے خوکفیل بھی ہو جائیں گے اور ملکی معاشیت کا بھی بھلا ہو جائے گا اسطرح حکومت عوام کو کم سے کم اپنے صحنوں میں اپنی ضرورت کی سبزیاں کاشت کرنے کا پیغام بھی پہنچائے اور محکمہ زراعت کے ذریعے اچھے بیج کی فراہمی بھی یقینی بنائے ویسے بھی اس لاک ڈاؤن کے دوران کوئی اور سرگرمی ممکن نہیں اور عوام کو حالات کی سنگینی کا بھی کچھ نہ کچھ احساس ہے اس لیے عوام اس پیغام کو سنجیدگی سے سنیں گے بھی اور ایک مثبت عمل میں مصروف بھی ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ بھی ایسے اقدامات کیےجائیں تاکہ ہم مشکل حالات کا مقابلہ کر پائیں ۔
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے سب سے پہلے ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کیونکہ کہ وہ اس جنگ میں ہمارے فرنٹ لائن سپاہی ہیں اور وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ہمیں اس وقت تک کئی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پروفیشنلزم کی کمی نظر آئی ہے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں سے غیر انسانی رویے کی شکایت موصول ہو رہی ہیں جو کہ آنے والے دنوں میں انارکی اور شورش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے اداروں کو سختی سے ڈسپلن کی پیروی کرنے کی تاکید کی جائے نہ کہ ظالمانہ حرکتوں کی پزیرائی کی جائے۔
اور آخر میں اگر عوام کے لاک ڈاؤن کے حوالے سے رویے کی بات کی جائے تو ہمیں یہ تلخ حقیقت ماننی پڑے گی کہ عوام کا رویہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ لیکن اس کی کئی وجوہات بھی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ عوام غریب ہے دن کو کماتی ہے تو ہی رات کو چولہا جلتا ہے۔ ایسے میں پیٹ کی آگ کے سامنے وباء کا خوف اور لاک ڈاؤن کی اہمیت مدھم پڑ
جاتی ہے۔ ویسے بھی بھوک تہذیب کے آداب مٹا دیتی ہے اس لئے غریب لوگوں کے لئے خصوصی ریلیف اور کھانے کے لئے راشن کا جلد انتظام کرکے ہی انھیں قانون کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں بطور قوم کریکٹر بلڈنگ کو بھی خاص اہمیت دینی ہو گی تاکہ ہم قانون کا ادب و احترام سیکھ پائیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم قانون کے احترام کے عنوان سے نصاب میں شامل سبق سو میں سے سو نمبر حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ قانون کا احترام سیکھانے کے لئے پڑھائیں گے۔
قارئین کا میری رائے سے متفق ہونا لازم نہیں اختلاف رائے ممکن ہے۔شکریہ
تحریر ثاقب کیانی

👌
ReplyDeleteAbsolutely right
DeleteZbrdast... Sb logou ko apna apna role play krna chyea tb he ja kr hum mushkal ke is gari sy nikal skty hn
ReplyDeleteG asa he ha thanx
Delete